5 نومبر 2012 - 20:30

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکز کراچی کے انتہائی مصروف علاقے صدر میں واقع پارکنگ ایریا میں مسلح دہشتگردوں نے آج صبح کاروائی کرکے علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری اور مرزا شاہد علی کو شہید کردیا۔ علامہ سیدساجد علی نقوی، علامہ راجہ ناصر جعفری اور علامہ سیدحسن ظفر نقوی کے مذمتی بیانات اور تین روزہ سوگ کا اعلان۔

 اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ان کی میت کو امام بارگاہ محفل شاہ خراسان لے جایا گیا جہاں ان کی تجہیز و تدفین کے انتظامات کئے جا رہے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ اس وقت سینکڑوں لوگوں کا مجمع وہاں موجود ہے۔ جعفریہ الائنس کے جنرل سیکریٹری سید شبر رضا زیدی کا کہنا ہے کہ آغا آفتاب حیدر جعفری جعفریہ الائنس کے مرکزی رہنما تھے۔ شبر رضا زیدی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ شیعہ علما کونسل پاکستان، جعفریہ الائنس نے واقعے کی مذمت جبکہ مجلس وحدت مسلمین  نے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا۔واضح رہے کہ علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری کراچی میں شیعہ قومیات کی مناسبت سے ایک جانی پہچانی شخصیت تھے، کوئی احتجاجی مظاہرہ ہو یا پھر کسی تنظیم کا کوئی پروگرام، علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری ان پروگراموں کا لازمی حصہ شمار ہوتے تھے۔ آج کراچی میں تمام تنظیمیں اور عوام ایک مخلص، باکردار، نڈر انسان اور عظیم سرمایہ سے محروم ہوگئی ہیں۔ پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کالعدم دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ کو ملوث بتایا جاتا ہے کہ  جس کی بنیاد 80 کے عشرے میں جنرل ضیا کی فوجی حکومت کے دور میں پڑی تھی۔ ..../169

مجلس وحدت مسلمین کے راہنما اور معروف خطیب و ذاکر اہلبیت (علیہم السلام) علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری کو ان کے دوست شاہد علی کے سمیت کالعدم مگر سرگرم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے  آج صبح پارکنگ پلازہ صدر کے قریب اس وقت شہید کردیا جب وہ اپنے آفس جارہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی شہید جٹ لائن سے صدر پارکنگ پلازہ کے قریب پہنچے کالعدم مگر سرگرم سپاہ صحابہ (اہلسنت والجماعت) کے دہشت گردوں نے دونوں اطراف سے ان کی کار پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں شہید شاہد علی نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ علامہ جعفری شدید زخمی ہوئے؛ دونوں کو فوراً جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری بھی درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔ واضح رہے کہ شہید علامہ آفتاب حیدر جعفری شہر کراچی میں شیعہ قومیات کے حوالے سے بہت زیادہ معروف شخصیت تھے اور مختلف شیعہ تنظیموں میں فعال کردار ادا کر تے رہے تھے۔ ان کا شمار جعفریہ الائنس پاکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوتاتھا اور ان دنوں مجلس وحدت مسلمین میں بہت زیادہ فعال کردار ادا کر رہے تھے ۔ کراچی شہر میں کسی تنظیم، انجمن یا ادارے کے پروگراموں میں ان کی شرکت لازمی ہوتی تھی اور انہیں شیعہ مکتب کے تمام حلقوں میں امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ محرم الحرام سے قبل علامہ آفتاب حیدر جعفری کی شہادت شہر کا ا

1

من و امان تباہ کرنے کی کالعدم تنظیموں کی سازش ہے اور ملت جعفریہ کا عظیم نقصان ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز نے سیدنویدحسین نقوی کے قلم سے ان کی چند یادیں مرتب کی ہیں جن کے بض نکات یہاں پیش کئے جارہے ہیں:٭ خطیب آل محمد (ص) علامہ آفتاب حیدر جعفری کا تعلق کراچی سے تھا۔ ملت جعفریہ کے حقوق کے لئے ہر محاذ پر پیش پیش تھے؛ نام و نمود کے طلب گار نہ تھے۔ جب اسلام ٹائمز نے شہید سے چند تعارفی کلمات لکھنے کی دخواست کی تو انھوں نےکاغذ پر فقط 'خطیب آل محمد (ع)' لکھنے پر اکتفا کیا؛ اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور کہا کرتے تھے کہ "سنی اور شیعہ عالم اسلام کے دو بازو ہیں"۔  ٭ شہید گلگت، بلتستان، کوئٹہ اور دیگر جگہوں پر ہونے والے سانحات پر گفتگو کے لئے ایک پلیٹ فارم اور ان مسائل کا کوئی مشترکہ حل نکالنے کی خواہش رکھتے تھے کہ جو لوگ شیعہ کاز کو سمجھتے ہیں اور اس کا درد رکھتے ہیں، انہیں آگے آنا چاہیے اور ملت کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔٭ ان کی خواہش تھی کہ شیعہ ووٹ دیکھ پرکھ کے اُس اُمیدوار کو دیا جائے جو تشیع کے اجتماعی مفاد سے ہمدردی رکھتا ہو؛ تشیع کے لئے بول سکتا ہو، اور تشیع کی آواز اربابِ اختیار تک مؤثر اور نتیجہ خیز طریقے سے پہنچا سکتا ہو۔

٭ وہ چاہتے تھے کہ ملت جعفریہ دشمن کو پہچانے اور اس کی سازش کو سمجھے۔٭ گستاخانہ فلم کے بارے میں ان کا موقف تھا کہ یہ دانستہ طور پر غلطی کی گئی ہے، ماضی میں توہین آمیز خاکوں پر بھی پوری دنیا کے مسلمانوں کا جذبہ دیکھنے کے قابل تھا لیکن یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے اور عالم کفر دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا مسلمانوں میں کچھ غیرت اور حمیت ہے۔ کیا یہ کفر کے مقابل اٹھنے کی ہمت رکھتے ہیں یا نہیں۔٭ شہید کا کہنا تھا کہ الحمداللہ دنیا کے بہت سے ممالک کے مسلمانوں نے ثابت کر دیا کہ سب کچھ برداشت ہوسکتا ہے لیکن لیکن شعائر اللہ اور حرمت رسول (ص) اور دین اسلام پر حرف آئے تو یہ ناقابل برداشت ہے چنانچہ وہ لوگ ہورے جوش و جذبے سے، کسی بھی انجام کی پروا کئے بغیر نکل آئے۔ انہوں نے سفارتخانوں کو آگ بھی لگائی، پاکستان کے اندر بھی ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام مظاہرہ ہوا۔ ٭ انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں لال مسجد کے قریب سے جب ایم ڈبلیو ایم کے افراد گزر رہے تھے تو لال مسجد والوں نے جب دیکھا کہ معاملہ حرمت رسول (ص) کا ہے تو وہ مظاہرے میں شریک ہوگئے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ مظاہرہ کرنے والے کافر نہیں ہیں، یہ مسلمان ہیں، لہذا وہ مظاہرے میں شامل ہوئے۔ چنانچہ وقت بدل رہا ہے۔ مسلمان باشعور ہوتے جا رہے ہیں اور انشاءاللہ وہ وقت آئے گا کہ پوری دنیا کے مسلمان، تمام عالم اسلام اپنے مشترکہ دشمن کا پہچان لے گا۔٭ شہید ایران کے انقلاب اسلامی کو دنیا کے لئے نعمت تصور کرتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ 1979ء جب ایران میں انقلاب آیا تو اس وقت امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) نے ایک نعرہ قرآن و سنت کی روشنی میں دیا اور وہ تھا اتحاد بین المسلمین کا نعرہ۔

٭ شہید نے کہا تھا کہ اتنی قوت کا دھماکہ ایٹم بم کے ناگا ساکی اور ہیروشیما پر گرانے سے نہیں ہوا، جتنا زور دار دھماکہ مسلمانوں کے آپس میں متحد ہو جانے سے ہمارے لئے ہوسکتا ہے۔ ٭ شہید اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور داعی ہونے کے ناطے کہا کرتے تھے کہ سنی اور شیعہ عالم اسلام کے دو بازو ہیں اور انہیں امید تھی کہ مسلمانوں کا خون بہنے اور اتنی قربانیاں دینے کے بعد انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں، جب عالم اسلام متحد ہوجائے گا۔ ٭ عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے شہید کا کہنا تھا کہ اگر غور کریں تو نیو ورلڈ آرڈر کے تحت ایران مخالف قوتیں، ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتی ہیں، وہ جانتی ہیں کہ بلوچستان میں ایک قوت کو وقت سے پہلے ختم کر دیا جائے تو ہمارا مقصد آسان ہو جائے گا۔ شیعہ مسلک کے وابستگان کی قتل و غارت گری اس پلان کا حصہ ہے۔ اب بلوچستان کے لوگوں میں شعور بیدار ہو رہا ہے۔ جیسے کہ پشتون مزدور مارے گئے ہیں تو وہاں کے لوگوں کا مزاج کروٹ بدل رہا ہے۔علامہ ساجد نقوی کی جانب سے شہید علامہ آفتاب حیدر جعفری کی ٹارگٹ کلنگ پر اظہار افسوسملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں علامہ آفتاب حیدر جعفری کی  شہادت پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس ظلم و بربریت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے دن دہشتگردی کی وارداتوں اور ٹارگٹ کلنگ سے واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز عالم دین علامہ آفتاب حیدر جعفری کے بہیمانہ قتل پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پورے ملک خصوصاً کراچی اور کوئٹہ میں جس طرح قتل عام جاری ہے اس ظلم و بربریت کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری قتل عام، دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ سے اب عوام سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ملک میں عملاً دہشتگردوں کا راج ہے اور گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، علماء کرام، وکلاء، ججز اور سکول کے معصوم بچوں سمیت بے یارومددگار مسافروں اور عام شہریوں میں سے کسی کی جان محفوظ نہیں۔انہوں نے اس موقع پر مذکورہ واقعہ میں ملوث قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دہشتگردوں کیخلاف ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جاتے اس وقت تک ملک میں پائیدار بنیادوں پر امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ بعد ازاں علامہ سید ساجد علی نقوی نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا: ہم  مصیبت کی اس گھڑی میں شہید کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آج کراچی میں تمام تنظیمیں اور عوام ایک مخلص، باکردار اور نڈر انسان اور عظیم سرمائے سے محروم ہوگئی ہیں۔شبر رضا زیدی: غا آفتاب حیدر جعفری جعفریہ الائنس کے مرکزی رہنما تھے،حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔اطلاعات کے مطابق شہر قائد آج پھر سوگ وار ہی رہا کراچی میں مسلح دہشت گردوں نے صدر کے علاقے میں کار پر فائرنگ کرکے جعفریہ الائنس کے سابق رہنما اور اتحاد بین المسلیمن کے علمبردار آغا آفتاب حیدر جعفری  کو ساتھی سمیت فائرنگ کرکے شہید کردیا، جس کے بعد مشتعل افراد نے ایم اے جناح روڈ پر احتجاج کے دوران سڑک بند کردی جبکہ ایک بس بھی نذر آتش کردی گئی۔ علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری جیکب لائن میں اپنی قیام گاہ سے دفتر جارہے تھے کہ پارکنگ پلازہ کے قریب گھات لگا کر مسلح دہشت گردوں نے کار پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں آغا آفتاب حیدر جعفری اور ان کے ساتھی شاہد علی مرزا موقع پر شہید ہوگئے۔ شہید کی کی میت کو جناح ہسپتال لایا گیا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی، علامہ کی میت محفل شاہ خراساں کے نزدیک خوجہ جماعت کے غسل خانے منتقل کردی گئی، مشتعل افراد نے میت پہنچنے پر ایم اے جناح روڈ پر احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا جبکہ ایک بس کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ شیعہ تنظیم مجلس وحدت مسلمین نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہےجبکہ شیعہ ایکشن کمیٹی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرقہ پرست دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔

ولایت امیرالمومنین فاونڈیشن کے رہنما فاضل عباس نے علامہ آفتاب جعفری کے قتل کا ذمہ دار کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کو  قرار دیا ہے۔ ممتاز عالم دین مولانا مرزایوسف حسین نے علامہ آفتاب حیدر کی شہادت کے واقعے کو انتظامیہ کی نااہلی قرار دیا ہے، اُنھوں نے کہا کہ انتظامیہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرکے کراچی میں موجود دہشت گردوں کیخلاف آپریشن شروع کردیتی تو اس قسم ک